اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں مزاحمتی محاذ کے خلاف دشمنوں کی دھمکیوں کے پس منظر میں وسیع تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ ایران کی قیادت میں ایران اور یمن پر مشتمل مزاحمتی محاذ خطے کی اقوام کے دشمنوں کے مقابلے کے لیے اپنی فوجی اور تزویراتی صف بندی کر رہا ہے۔
ایک جانب یمن اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل سخت دھچکے پہنچا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران نے اپنی میزائل اور فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ فوجی کمانڈروں کے مطابق، ایران کی یہ صلاحیتیں گزشتہ جنگوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جس نے دشمن کو نئی جنگ شروع کرنے کے معاملے میں خوف اور تذبذب سے دوچار کر دیا ہے۔
لبنانی بریگیڈیئر جنرل اور فوجی و تزویراتی امور کے ماہر علی ابی رعد نے ’’مزاحمت کے ابھرتے ہوئے بازدارندگی کے محاذ: ایران اور یمن کی فوجی حکمت عملی کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں خطے کی حالیہ صورت حال اور امریکی، عرب اور صیہونی محاذ کے مقابلے میں ایران اور یمن کی دفاعی صلاحیتوں کا تجزیہ کیا ہے۔
ان کے مطابق، موجودہ مرحلے میں خطے میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جنہوں نے فوجی برتری کے روایتی تصورات کو بدل دیا ہے۔ اب صرف روایتی افواج کی عددی اور معیاری طاقت تنازعات کے فیصلے میں واحد عامل نہیں رہی، بلکہ غیرمرکزی فوجی حکمت عملی اور غیرمتوازن دفاعی صلاحیتیں بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
اس پیچیدہ صورت حال میں ایران اور یمن کے محاذ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی مثالوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان دونوں نے حالات کے مطابق ڈھلنے، مقابلے کے نئے ذرائع تیار کرنے اور طاقت کے ایسے نئے توازن قائم کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت دکھائی ہے جنہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال کو نئی شکل دی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران معاشی اور فوجی پابندیوں اور محاصرے کو اپنی فوجی صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک تزویراتی محرک میں تبدیل کیا ہے۔ اس نے میزائلوں اور فضائی دفاع سمیت اہم شعبوں میں تقریباً مکمل خودکفالت کی بنیاد پر اپنی صلاحیتیں استوار کی ہیں۔
ایران نے اپنی تزویراتی دفاعی قوت کے لیے ایک جدید میزائل نظام تیار کیا ہے، جس میں ’’فتاح‘‘ جیسے ہائپرسونک میزائل بھی شامل ہیں۔ مضمون نگار کے مطابق، ان میزائلوں کی تیز رفتار اور بلند درجے کی نقل و حرکت کی صلاحیت انہیں دشمن کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہے۔
میزائلوں کے انجن، ان کی سمت متعین کرنے کی ٹیکنالوجی اور درست رہنمائی کی صلاحیت نے ایسا ’’دفاعی توازن‘‘ پیدا کیا ہے جس کے باعث ایران پر مکمل حملے کا کوئی بھی منصوبہ انتہائی مہنگا اور بڑے تزویراتی خطرات سے بھرپور ہو جاتا ہے۔
ایران کی دفاعی گہرائی اور میزائل شہروں کے حوالے سے علی ابی رعد لکھتے ہیں کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی مضبوط زیرِ زمین اڈوں کے وسیع نیٹ ورک پر مبنی ہے، جنہیں ’’میزائل شہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اڈے جغرافیائی اعتبار سے ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، اس نظام کی موجودگی کے باعث ایک پیشگی حملے کے ذریعے ایران کے تزویراتی میزائل ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کرنا عملاً ناممکن ہو جاتا ہے اور ایران کے لیے تباہ کن اور دردناک جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔
ٹیکنالوجی اور اس پر خودمختاری کے حوالے سے مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجی انجینئروں نے الیکٹرانک جنگ اور ڈرونز میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں جدت طرازی کی صلاحیت ثابت کی ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی فوجی صنعتیں مؤثر کارکردگی اور مغربی ممالک کے مہنگے ہتھیاروں کے مقابلے میں کم پیداواری لاگت کے باعث عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوم: یمن کا محاذ؛ فوجی پیداوار میں نمایاں پیش رفت اور سمندری گزرگاہوں پر مہارت
یمن کے محاذ پر صنعا نے سخت محاصرے اور دشوار حالات میں جنگی کارروائیاں چلانے کی ایک منفرد مثال پیش کی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق، یمنی عوام نے ثابت قدمی کے ذریعے جنگ کو ایک ایسی تزویراتی سطح تک پہنچایا جس کی مثال پہلے کم ہی دیکھی گئی اور جس کے اثرات عالمی تجارت اور بین الاقوامی بحری سلامتی تک پہنچے۔
انصاراللہ نے بحری اور فضائی ہتھیاروں کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ علی ابی رعد کے مطابق، یمن طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں، صماد جیسے حملہ آور ڈرونز، بغیر پائلٹ کشتیوں اور ایسے رہنمائی یافتہ بحری ہتھیاروں کی تیاری کا علاقائی مرکز بن گیا ہے جو اپنے اہداف کو بلند درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، یمنی قوتوں نے آبنائے باب المندب اور اس کے اردگرد کے تزویراتی جغرافیے پر بھی کنٹرول حاصل کیا ہے۔
فوجی اعتبار سے مضمون نگار کے نزدیک یمنیوں کی مہارت کا ایک اہم پہلو جغرافیے سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر کے سامنے واقع مغربی ساحل پر کنٹرول نے یمنی قوتوں کو ایک نہایت اہم تزویراتی برتری فراہم کی۔ ان کے مطابق، ایک محدود جغرافیائی علاقے کو ایسی گزرگاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں آمدورفت روکنے اور اس پر کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت عالمی طاقتوں کی بحری حکمت عملی کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے صیہونی حکومت یا اس سے وابستہ مفادات کی جانب بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے میں مغربی بحری بیڑوں کی ناکامی کو بھی نمایاں کیا ہے۔
اس کے علاوہ، عوامی مزاحمت کی حکمت عملی اور جنگی تیاری بھی یمنی محاذ کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔ مضمون نگار کے مطابق، یمنی قوتوں کی برتری کا انحصار انسانی وسائل اور مضبوط جنگی نظریے پر ہے۔ زمینی نقل و حرکت کی اعلیٰ صلاحیت، چھپنے اور بھیس بدلنے کی مہارت، دشوار پہاڑی علاقوں میں پیچیدہ دفاعی مورچے قائم کرنا، عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تیاری اور افرادی قوت کی وسیع شمولیت نے یمن کے زمینی محاذ کو ایک مضبوط رکاوٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول، یمن کے خلاف مخالف قوتوں کی کئی منصوبہ بندیاں ناکام ہو چکی ہیں۔
سوم: تزویراتی ہم آہنگی اور مختلف محاذوں کا باہمی انضمام
علی ابی رعد کے مطابق، موجودہ مرحلے میں ایران اور یمن کے محاذوں کی اضافی طاقت کا اہم سبب مشترکہ محاذوں اور باہم مربوط صلاحیتوں کا تصور ہے۔
انٹیلی جنس اور تکنیکی تعاون: ان کے مطابق، فوجی اور تکنیکی مہارتوں سے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے عمل نے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد دی ہے۔ اس طرح ایران اور یمن علاقائی سلامتی کے توازن کا اہم اور ناگزیر حصہ بن گئے ہیں۔
دشمن کو معاشی اور فوجی طور پر تھکانا: مضمون نگار کا کہنا ہے کہ طویل محاذ آرائی اور مربوط کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے فضائی دفاعی نظاموں کے مہنگے میزائلوں، مثلاً پیٹریاٹ اور تھاڈ، کو کم لاگت والے میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں استعمال کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس حکمت عملی نے دشمنوں سے وابستہ عالمی معاشی نظام پر بھاری مالی بوجھ ڈالنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔
علی ابی رعد کے مطابق، موجودہ فوجی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ ایران اور یمن کے محاذ روایتی دفاع سے آگے بڑھ کر ایسے میدان میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں نئے اصول متعین کیے جا رہے ہیں اور طاقت کا توازن بدلا جا رہا ہے۔
ان کے بقول، ایران اپنی دفاعی میزائل صلاحیتوں اور تزویراتی گہرائی کے ساتھ، جبکہ یمن اپنی حربی مہارت اور اہم بحری گزرگاہوں پر کنٹرول کے ذریعے، ایک طاقتور فوجی محاذ تشکیل دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے ثابت کیا ہے کہ آزاد قومی ارادہ اور خودکفالت بڑی طاقتوں کی فوجی اور تکنیکی برتری کی اجارہ داری کو توڑ سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ